بیجنگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے اختتام پر سفارتی عدم اعتماد کا غیر معمولی واقعہ، امریکی وفد نے چینی حکام کی دی ہوئی تمام اشیاء ایئرپورٹ پر ہی تلف کر دیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو روزہ تاریخی دورۂ چین کے اختتام پر بیجنگ ایئرپورٹ سے ایک سنسنی خیز اور غیر معمولی سفارتی واقعہ سامنے آیا ہے۔ امریکی وفد اور وائٹ ہاؤس کے عملے نے امریکا روانگی کے لیے صدارتی طیارے 'ایئر فورس ون' پر سوار ہونے سے قبل چینی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تمام اشیاء بشمول تحائف، دفتری شناختی کارڈز، بیجز اور عارضی برنر موبائل فونز طیارے کی سیڑھیوں کے نیچے موجود کچرے کے ڈبوں میں پھینک دیے۔ وائٹ ہاؤس کے پریس پول میں شامل نیویارک پوسٹ کی رپورٹر 'ایملی گڈان' نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "چینی نژاد کوئی بھی چیز صدارتی طیارے میں لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی"۔
سفارتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ انتہائی قدم سائبر سیکیورٹی کے سخت ترین پروٹوکولز اور بیجنگ کی جانب سے ممکنہ الیکٹرانک جاسوسی (Espionage) کے شدید خدشات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دورے کے دوران امریکی وفد کو ذاتی موبائل فونز استعمال کرنے کی سخت ممانعت تھی، اور ان کے اصل آلات سگنل بلاک کرنے والے 'فیراڈے بیگز' میں طیارے کے اندر ہی مقفل رکھے گئے تھے جبکہ بیجنگ میں صرف عارضی برنر فونز استعمال کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں عالمی طاقتوں کے صدور کے مابین ملاقات بظاہر خوشگوار ماحول میں ہوئی، مگر ایئرپورٹ پر پیش آنے والے اس سیکیورٹی مہم جوئی نے واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین گہرے عدم اعتماد اور پسِ پردہ جاری انٹیلی جنس جنگ کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔