اسلام آباد: متحدہ عرب امارات (UAE) سے ہزاروں پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلی اور ملک بدری کے سنگین معاملے پر سوانحِ احتجاج بلند کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی (ANP) نے سینیٹ میں تحریکِ التواء جمع کرا دی ہے ۔ یہ اہم تحریک اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کی جانب سے باضابطہ طور پر جمع کرائی گئی ہے جس میں اماراتی حکام کے اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ تحریک کے متن کے مطابق، بعض پاکستانی شہریوں کو مذہبی وابستگی، نجی مذہبی اجتماعات میں شرکت یا مبہم سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر ڈی پورٹ کیے جانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے بالخصوص دبئی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی شدید خوف، بے یقینی اور معاشی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے ۔
حسبان میڈیا کے مطابق تحریکِ التواء میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یو اے ای میں لاکھوں پاکستانی روزگار، کاروبار اور سرمایہ کاری سے وابستہ ہیں، اور ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر یہ ابتر صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کا روزگار متاثر ہوگا، بلکہ پاکستان میں ان پر انحصار کرنے والے لاکھوں خاندان، مقامی کاروبار اور ملکی معاشی سرگرمیاں شدید ترین بحران کا شکار ہو جائیں گی ۔ اے این پی نے واشگاف لفظوں میں کہا ہے کہ رنگ، نسل یا مذہب کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے ۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان خطے میں جاری ایران اور عرب ممالک کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کرے اور یو اے ای میں پاکستانی سفارت خانہ متاثرہ شہریوں کو فوری قانونی و سفارتی معاونت فراہم کرتے ہوئے اس اہم ترین قومی و انسانی مسئلے پر سینیٹ کا ہنگامی اجلاس بلا کر بحث کرائی جائے ۔