اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں ملکی نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور معیشت کی بحالی کے لیے متعدد تاریخی فیصلے کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے نوجوانوں کو اپنے کاروبار شروع کرنے کے لیے مروجہ مختلف آسان قرضہ اسکیموں کو مربوط کرتے ہوئے انہیں "ایک چھتری تلے" لانے کی اصولی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے زور دیا کہ حکومت نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
حسبان میڈیا کے مطابق اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایات دیں کہ وہ جامعات میں آئی ٹی کی تعلیم کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل پیش کریں۔ معاشی شعبے میں اہم تبدیلی لاتے ہوئے وزیراعظم نے زراعت میں پروسیسنگ کے شعبوں کو چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں کمرشل بینکوں کے ذریعے آسان قرضوں کی فراہمی کے لیے 48 اقدامات نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ علاوہ ازیں، وزیراعظم نے سعودی عرب میں جاری حج مشن کی خدمات میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ برتنے کی سخت تاکید کی اور ملک بھر میں رواں برس مونسون کی آمد سے قبل پیشگی تیاریاں مکمل کرنے کے لیے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف اور وزیر ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک کو اہم ٹاسک سونپ دیے ہیں۔
اہم تفصیلات اور فیصلے