|گوجرانوالہ: وفاقہ تحقیقاتی ادارے (FIA) کی خصوصی عدالت نے لیبیا کے ہولناک کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے دو مرکزی ملزمان کو مجموعی طور پر 44 سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے معزز جج نے مقدمے کی مکمل سماعت اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مجرم باپ اور بیٹے کو 22، 22 سال قیدِ بامشقت اور 14، 14 لاکھ روپے انفرادی جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مجرمان کو مزید قید کاٹنا ہوگی۔
عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوشن نے موقف اختیار کیا کہ ان بے رحم انسانی اسمگلرز نے دو سگے بھائیوں کو غیر قانونی طریقے سے اٹلی بھجوانے کے عوض ورثا سے 62 لاکھ روپے کی خطیر رقم وصول کی تھی۔ بدقسمتی سے دونوں بھائی جون 2023 میں لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے کے المناک واقعے میں جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد غمزدہ خاندان کی مدعیت میں تھانہ ایف آئی اے گوجرانوالہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ سال 2023 میں تارکینِ وطن کی کشتیوں کے حادثات میں درجنوں پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے۔ قانونی ماہرین نے اس عدالتی فیصلے کو انسانی اسمگلنگ کے بھیانک دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔