واشنگٹن : امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران اب تک امریکی خزانے سے تقریباً 29 ارب ڈالر کے اخراجات ہو چکے ہیں، جو کہ کانگریس کو بتائے گئے ابتدائی تخمینوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، پینٹاگون کے قائم مقام مالی امور کے نگران جے پرمسٹ سمیت دیگر سینئر حکام نے امریکی کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یہ اخراجات گزشتہ ماہ دیے گئے 25 ارب ڈالر کے تخمینے کے مقابلے میں بھی 4 ارب ڈالر زائد ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ ٹیمیں مسلسل ان اخراجات کا جائزہ لے رہی ہیں اور اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ رقم حتمی نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے خبردار کیا ہے کہ 29 ارب ڈالر کا یہ تخمینہ بھی ابھی مکمل نہیں ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات، ان کی مرمت اور دیگر خلیجی اخراجات کو ابھی اس میزانیے میں پوری طرح شامل نہیں کیا گیا۔ بعض دفاعی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج کی اصل لاگت اس سرکاری ہندسے سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، امریکی وزیر دفاع نے امریکی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج برقرار رکھنے کے لیے 1.5 ٹریلین (پندرہ سو ارب) ڈالر کے خطیر دفاعی بجٹ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مہم ان کے لیے ایک "مقدس مشن" کی حیثیت رکھتی ہے۔
اہم تفصیلات اور پوائنٹساہم تفصیلات اور پوائنٹس
بجٹ اور اخراجات کا موازنہ (Comparison Table)
| تفصیلات (Details) | رقم / ڈالر (Amount in Dollars) | حیثیت (Status) |
|---|---|---|
| ابتدائی تخمینہ بجٹ (Estimated Budget) | 25 ارب ڈالر (25 Billion Dollars) | ابتدائی رپورٹ |
| اب تک کے کل اخراجات (Total Expenses) | 29 ارب ڈالر (29 Billion Dollars) | پینٹاگون اعتراف |
| اضافی اخراجات (Excess Amount) | 4 ارب ڈالر (4 Billion Dollars) | بجٹ سے اوپر |
| مجموعی مطلوبہ دفاعی بجٹ (Required Defense Budget) | 1.5 ٹریلین ڈالر (1.5 Trillion Dollars) | مستقبل کا ہدف |