حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خون کے دریا میں کھڑا ہو کر بات کر رہا ہوں"، مہنگائی اور آئینی ترامیم پر مولانا فضل الرحمٰن کی کڑی تنقید Home / سیاست /

خون کے دریا میں کھڑا ہو کر بات کر رہا ہوں"، مہنگائی اور آئینی ترامیم پر مولانا فضل الرحمٰن کی کڑی تنقید

ایڈیٹر - 13/05/2026
خون کے دریا میں کھڑا ہو کر بات کر رہا ہوں

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی میں موجودہ حکومت، معاشی پالیسیوں اور آئینی ترامیم کے معاملے پر سخت ترین رخ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں شہباز شریف کو کہیں بھی حکمران تسلیم نہیں کیا جا رہا، حکومت مکمل طور پر بے بس جبکہ اسٹیبلشمنٹ طاقتور دکھائی دیتی ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان میں میڈیا اور ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے آئینِ پاکستان کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آئین کو ایک مذاق اور کھلونا بنا دیا گیا ہے، جہاں اوپر تلے من پسند ترامیم کر کے اس کا حلیہ بگاڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین کے تحفظ کے لیے مضبوط کردار ادا کرے، جے یو آئی اس مقصد کے لیے ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہو گی۔

اپنے خطاب میں جمیعت کے قائد نے ملکی سلامتی اور معاشی بحران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ باتیں کسی خوف کے بغیر "خون کے دریا میں کھڑے ہو کر" کر رہے ہیں کیونکہ جے یو آئی کے اکابرین اور پارلیمنٹ ممبران دہشت گردی کا نشانہ بن کر شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال کیا کہ حکمران پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس بلانے کی تجویز سے راہِ فرار کیوں اختیار کر رہے ہیں اور حقائق کو عوام سے کیوں چھپایا جا رہا ہے؟ مہنگائی کے طوفان پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور بین الاقوامی پیٹرولیم قیمتوں کا اثر انڈیا، ایران یا افغانستان پر نہیں پڑا، لیکن پاکستان میں عوام پر مہنگائی کی قیامت ڈھائی گئی ہے اور معیشت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے آپریشنز کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پندرہ فوجی آپریشنز کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا اور "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی" کے مصداق حالات مزید خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔