حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اگر پولیس صوبائی حکومت کے اختیار میں نہیں تو حکومت اقتدار کیوں نہیں چھوڑ دیتی؟ ایمل ولی خان کا سوال۔ Home / سیاست /

اگر پولیس صوبائی حکومت کے اختیار میں نہیں تو حکومت اقتدار کیوں نہیں چھوڑ دیتی؟ ایمل ولی خان کا سوال۔

ایڈیٹر - 13/05/2026
اگر پولیس صوبائی حکومت کے اختیار میں نہیں تو حکومت اقتدار کیوں نہیں چھوڑ دیتی؟ ایمل ولی خان کا سوال۔


عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں بدامنی کی حالیہ لہر پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں لیکن ریاست تماشہ دیکھنے میں مصروف ہے۔ پشاور سے جاری اپنے ایک خصوصی بیان میں انہوں نے لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں ہونے والے بم دھماکے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پختونخوا کے عوام اس وقت ایک زبردستی کی مسلط کردہ جنگ کا سامنا کر رہے ہیں جہاں معصوم شہریوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

سینیٹر ایمل ولی خان نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پختونخوا کے عوام کو وفاق اور صوبے کے درمیان فٹبال بنا دیا گیا ہے۔ دونوں حکومتیں حالات کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال کر عوام کو بیوقوف بنا رہی ہیں، جبکہ حقیقت میں پختونوں کی اس خونریزی میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں برابر کی شریک ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گرد اور عناصر آج بھی کھلے عام شہری علاقوں میں گھوم رہے ہیں، اس اندرونی جنگ کو روکنے کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا یہ نادیدہ عناصر ہمیشہ نامعلوم ہی رہیں گے اور عوام اسی طرح مرتے رہیں گے؟

مرکزی صدر اے این پی نے باڑہ سیاسی اتحاد کے احتجاجی مظاہرے پر صوبائی حکومت کی شیلنگ کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جب عوام امن کے قیام اور بدامنی کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ان پر ڈرون اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جاتی ہے جو کہ انتہائی شرمناک اقدام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر صوبے کی پولیس بھی صوبائی حکومت کے اختیار میں نہیں ہے تو حکومت کو فی الفور اقتدار چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ بااختیار نہ ہونے کا عذر قبول نہیں کیا جا سکتا۔