پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ریڑھی بانوں کو قانونی دائرہ کار میں لانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے 'احساس ریڑھی بان پروٹیکشن بل 2026' صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم نے ایوان میں اہم بل پیش کیا، جسے ڈپٹی اسپیکر نے مزید مشاورت کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے 15 روز میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اس بل کے تحت صوبے کے تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار ریڑھی بانوں کو باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور بغیر رجسٹریشن ریڑھی لگانے پر پابندی عائد ہو جائے گی۔
نئے قانون کے مطابق رجسٹرڈ ریڑھی بانوں کو ہراساں کرنا، ان سے رشوت طلب کرنا یا ان کے خلاف غیر قانونی کارروائی کرنا سنگین جرم تصور ہوگا، جس پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ بل میں ریڑھی بانوں کے لیے 'محفوظ ویڈنگ زونز' کے قیام کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر کیے بغیر انہیں باعزت روزگار کے مواقع مل سکیں۔ مزید برآں، محنت کش طبقے کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے انہیں مائیکروفنانسنگ کے ذریعے آسان قرضوں، ہیلتھ انشورنس اور ایمرجنسی سپورٹ تک رسائی دینے کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
بل کی اہم تفصیلات :