حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ریڑھی بانوں کو ہراساں کرنا اور رشوت طلب کرنا سنگین جرم قرار۔ Home / لائف سٹائل /

ریڑھی بانوں کو ہراساں کرنا اور رشوت طلب کرنا سنگین جرم قرار۔

ایڈیٹر - 12/05/2026
ریڑھی بانوں کو ہراساں کرنا اور رشوت طلب کرنا سنگین جرم قرار۔

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ریڑھی بانوں کو قانونی دائرہ کار میں لانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے 'احساس ریڑھی بان پروٹیکشن بل 2026' صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم نے ایوان میں اہم بل پیش کیا، جسے ڈپٹی اسپیکر نے مزید مشاورت کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے 15 روز میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اس بل کے تحت صوبے کے تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار ریڑھی بانوں کو باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور بغیر رجسٹریشن ریڑھی لگانے پر پابندی عائد ہو جائے گی۔

نئے قانون کے مطابق رجسٹرڈ ریڑھی بانوں کو ہراساں کرنا، ان سے رشوت طلب کرنا یا ان کے خلاف غیر قانونی کارروائی کرنا سنگین جرم تصور ہوگا، جس پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ بل میں ریڑھی بانوں کے لیے 'محفوظ ویڈنگ زونز' کے قیام کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر کیے بغیر انہیں باعزت روزگار کے مواقع مل سکیں۔ مزید برآں، محنت کش طبقے کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے انہیں مائیکروفنانسنگ کے ذریعے آسان قرضوں، ہیلتھ انشورنس اور ایمرجنسی سپورٹ تک رسائی دینے کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

 

بل کی اہم تفصیلات :

  • Registration: صوبے کے تمام ریڑھی بانوں کی باقاعدہ Registration کی جائے گی، جس کے بعد انہیں قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔
  • Microfinance & Loans: رجسٹرڈ ریڑھی بانوں کو اپنا کاروبار بڑھانے کے لیے Microfinance کے ذریعے Asan Loan (آسان قرضوں) کی سہولت دی جائے گی۔
  • Insurance Coverage: محنت کشوں کے لیے Insurance (انشورنس) اور ایمرجنسی سپورٹ کی شقیں بھی بل میں شامل ہیں۔
  • Vending Zones: شہروں میں مخصوص 'سیف اور وینڈنگ زونز' قائم کیے جائیں گے جہاں ریڑھی بان بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا رزق کما سکیں گے۔
  • Protection against Harassment: ریڑھی بانوں کو ہراساں کرنا یا ان سے رشوت لینا اب سنگین جرم تصور ہوگا، جس پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
  • Strict Policy: غیر رجسٹرڈ ریڑھی بانوں پر پابندی عائد ہوگی تاکہ نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔