چارسدہ : عوامی نیشنل پارٹی کے رہبرِ تحریک اسفندیار ولی خان نے ممتاز عالمِ دین مولانا محمد ادریس کی شہادت پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے پوری پختون قوم کے لیے ایک عظیم علمی و سماجی نقصان قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مولانا ادریس ایک معتدل، باوقار اور امن پسند شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دین اور انسانیت کی خدمت میں وقف کر رکھی تھی۔
اسفندیار ولی خان نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا ایک بار پھر بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، جو کہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں اور ریاستی ادارے صورتحال کی سنگینی کے باوجود مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔
رہبرِ تحریک نے واضح الفاظ میں کہا کہ پختون قوم اب مزید خونریزی اور لاشیں اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مولانا ادریس کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام میں پایا جانے والا بے چینی کا احساس ختم ہو سکے۔