مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور عالمی امن کی جانب ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان آئندہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرد جنگ اور تنازعات کے خاتمے کے لیے بات چیت کی بحالی کی قوی امید پیدا ہو گئی ہے۔
ترک خبر رساں ادارے کی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین (14-15 مئی) سے قبل دونوں طاقتوں کے درمیان ایک ابتدائی معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔ سفارتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فریقین کے درمیان 85 فیصد تنازعات پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، تاہم جوہری پروگرام کا حساس مسئلہ تاحال سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
اسلام آباد ان مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے پرامید ہے اور حالیہ پیشرفت کو خطے کے استحکام کے لیے کلیدی قرار دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی ثالثی میں یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ نہ صرف پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا ثبوت ہوگا بلکہ عالمی سیاست میں ایک نیا رخ متعین کرے گا۔