مانسہرہ : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مانسہرہ میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ہزارہ ڈویژن کی تقدیر بدلنے کے لیے 200 ارب روپے کے جامع ترقیاتی پیکیج کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس تاریخی پیکیج میں سے 50 ارب روپے خاص طور پر سیاحتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ مقامی معیشت کو مستحکم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کو ہمیشہ تجربہ گاہ بنایا گیا ہے جس کا خمیازہ غریب عوام بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے 8 فروری کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 180 نشستیں جیتنے والی جماعت کو دیوار سے لگا کر عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی۔
بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے عمران خان کو پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ پوری قوم ان کے حکم کی منتظر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئینی اور قانونی راستے مسدود کیے گئے تو احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ حقوق کی جنگ کے لیے متحد رہیں اور ایلیٹ مافیا کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔