خیبر پختونخوا میں علماء کرام کی ٹارگٹ کلنگ میں شدت، شہداء کی تعداد 45 سے تجاوز کر گئی
پشاور : صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت دیگر اضلاع میں علماء کرام کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تھم نہ سکا، جہاں اب تک مختلف واقعات میں 45 سے زائد نامور علماء کرام اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ حالیہ سرکاری رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کوہاٹ میں ایک اور عالم دین کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا، جس نے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کا یہ سلسلہ گزشتہ چند سالوں سے مسلسل جاری ہے، جس میں مولانا حامد الحق اور مولانا سمیع الحق جیسی بین الاقوامی سطح پر معروف شخصیات بھی شامل رہی ہیں۔ پشاور کے علاقوں بورڈ بازار، قبائلی اضلاع اور بندوبستی علاقوں میں علماء کرام کو ان کے گھروں، مساجد اور عوامی مقامات پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ خاص طور پر نمازِ جمعہ کے بعد ہونے والے خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے مذہبی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے علماء کرام میں سے متعدد کا شمار پاکستان کے اہم ترین مذہبی رہنماؤں میں ہوتا تھا جو مختلف مقدمات میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ اگرچہ پولیس کی جانب سے بعض کیسز میں گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں، تاہم علماء کی مسلسل شہادتوں نے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔