سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے خلاف ایف آئی اے متحرک، مولانا ادریس کے خلاف مہم چلانے والوں کی نشاندہی مکمل
پشاور : وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ممتاز عالم دین اور سابق رکنِ صوبائی اسمبلی شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مذموم مہم کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک وسیع البنیاد کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کی خصوصی ٹاسک فورس نے گزشتہ ایک ماہ سے جاری منفی پروپیگنڈے میں ملوث درجنوں افراد کی نشاندہی کر لی ہے، جن میں پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع کے باشندے شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ اس مہم میں بعض سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے عناصر بھی ملوث ہیں، جن کے خلاف شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ وفاقی ادارے نے بیرونِ ملک مقیم شرپسندوں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے انٹرپول سے باضابطہ رابطہ کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ان افراد کی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں جو بیرونِ ملک بیٹھ کر نفرت انگیز مواد پھیلا رہے ہیں۔
ایف آئی اے کی اس سخت کارروائی کی خبریں منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر افراتفری کی لہر دوڑ گئی ہے اور قانونی کارروائی کے خوف سے بیشتر صارفین نے اپنی متنازع پوسٹس ڈیلیٹ کرنا شروع کر دی ہیں۔ تاہم، سائبر کرائم ونگ کا کہنا ہے کہ ڈیلیٹ شدہ مواد کا ریکارڈ بھی محفوظ کیا جا رہا ہے اور کسی بھی شخص کو قانون کی گرفت سے بچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ مذہبی شخصیات کی توہین اور معاشرے میں ہیجان پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔