عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جن میں پاکستان بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ واشنگٹن، اسلام آباد اور تہران کے درمیان مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال جاری ہے جبکہ حساس نکات پر تفصیلی بات چیت ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی بھی پیش رفت سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو مذاکرات کا مرکزی موضوع بنایا جائے۔ اس کے برعکس ایرانی مؤقف یہ ہے کہ سب سے پہلے ان کے سمندری راستوں پر عائد پابندیوں اور ناکہ بندی کو ختم کیا جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات حوصلہ افزا ہیں، تاہم صورت حال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی غیر متوقع واقعے سے کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل کے حلقوں میں ایک محدود مدت کی ممکنہ جنگ کی باتیں زیر گردش ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ایسی کسی کارروائی کا مقصد ایران کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی میز پر لانا ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں جہاں سفارتی حل کی امید برقرار ہے، وہیں خطے میں کشیدگی اور خدشات بدستور قائم ہیں۔