حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
طورخم بارڈر کی مسلسل بندش نے ہزاروں خاندانوں کو معاشی بحران میں دھکیل دیا Home / پاکستان /

طورخم بارڈر کی مسلسل بندش نے ہزاروں خاندانوں کو معاشی بحران میں دھکیل دیا

ایڈیٹر - 02/05/2026
طورخم بارڈر کی مسلسل بندش نے ہزاروں خاندانوں کو معاشی بحران میں دھکیل دیا

 

طورخم  : پاک افغان سرحد پر واقع اہم تجارتی گزرگاہ طورخم بارڈر کی گزشتہ آٹھ ماہ سے بندش نے مقامی سطح پر ایک سنگین معاشی اور انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ سرحدی بندش کے باعث لنڈی کوتل اور طورخم کے علاقوں میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے تقریباً 2500 سے زائد مزدور براہِ راست بے روزگار ہو چکے ہیں، جس کے اثرات ہزاروں بالواسطہ خاندانوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، طویل معاشی تعطل کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں کی حالت زار انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ کئی مزدوروں نے گھر کے اخراجات اور بچوں کے پیٹ پالنے کے لیے مجبوری میں اپنی روزی روٹی کا واحد ذریعہ، یعنی ریڑھیاں اور دیگر گھریلو سامان تک فروخت کر دیا ہے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ آٹھ ماہ سے کام نہ ہونے کی وجہ سے اب نوبت فاقوں تک آپہنچی ہے اور وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بالکل قاصر ہیں۔

مقامی معیشت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طورخم بارڈر کی بندش سے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہوئی ہیں بلکہ تعلیمی نظام بھی متاثر ہو رہا ہے کیونکہ والدین بچوں کی فیسیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ متاثرہ مزدوروں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے معاشی قتل عام کو روکا جائے اور سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی روزی کما سکیں۔