شیگر گڑھ : عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، امیر حیدر خان ہوتی نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے مسلسل تین ادوار میں صوبہ ایک ہزار ارب روپے کا مقروض ہو چکا ہے، جبکہ تاحال کوئی ایک میگا پراجیکٹ بھی شروع نہیں کیا جا سکا۔
لونڈ خوڑ میں منعقدہ ایک بڑے شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ کو صرف اپنی کرسی بچانے کی فکر ہے، انہیں نہ عوام کی خدمت سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے وزراء اور اراکینِ اسمبلی صرف "مال بنانے" میں مصروف ہیں۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کو اس وقت بڑا سیاسی دھچکا لگا جب سابق پارلیمانی امیدوار وارث خان، سابق ناظم حامد علی اور ان کے خاندانوں نے سینکڑوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ امیر حیدر ہوتی نے نئے شامل ہونے والے ارکان کو پارٹی کی ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں خوش آمدید کہا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا گیا، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر محض خواب ثابت ہوئے، جبکہ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی نجکاری کر کے غریب سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔