پشاور: خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفقت جان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رات کے اندھیرے میں ہسپتال منتقلی غیر قانونی ہے، جس کی اطلاع نہ خاندان کو دی گئی اور نہ ہی ان کے ذاتی معالج کو۔
پشاور میں صوبائی وزراء کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفقت جان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ایک ایسے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں متعلقہ مرض کے ماہر ڈاکٹرز ہی دستیاب نہیں، جبکہ حکومتی شخصیات معمولی بیماری پر بھی بیرونِ ملک علاج کروانے چلی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاجی تحریک کے حوالے سے تمام تر ذمہ داری محمود خان اچکزئی کو سونپ دی گئی ہے اور وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، صوبائی حکومت اور پارٹی اسے قبول کرے گی۔
پارٹی کے اندرونی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے شیر افضل مروت کی پارٹی سے بے دخلی کا دفاع کیا اور کہا کہ اگر کسی کو پارٹی قیادت سے اختلاف ہے تو وہ مستعفی ہو جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیلوں میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کو بینائی کے مسائل اور دیگر امراض لاحق ہو رہے ہیں، جو انتقامی سیاست کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں کا علاج ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں کرایا جائے۔