حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
"پشاور: 12 سالہ بچے کی موت کا معاملہ، ٹک ٹاک ویڈیو نہیں بلکہ قتل نکلا؛ پولیس نے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا" Home / لائف سٹائل /

"پشاور: 12 سالہ بچے کی موت کا معاملہ، ٹک ٹاک ویڈیو نہیں بلکہ قتل نکلا؛ پولیس نے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا"

ایڈیٹر - 29/04/2026


پشاور: نواحی علاقے تہکال پلوسی میں 12 سالہ طالب علم کی ہلاکت کی تحقیقات میں سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے حادثاتی موت قرار دیے جانے والے واقعے کو باقاعدہ قتل قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، پانچویں جماعت کے طالب علم اویس کی ہلاکت کے بعد پولیس کی گہرائی سے کی گئی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ بچہ اپنی گولی سے جاں بحق نہیں ہوا۔ ایس ایچ او تہکال کے مطابق، اصل واقعہ خواتین کے مابین دیرینہ عناد اور تنازع کا شاخسانہ ہے، جس کے نتیجے میں حمزہ نامی ملزم نے گھر میں گھس کر فائرنگ کی اور معصوم بچے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق، واردات کو حادثے کا رنگ دینے کے لیے اسے 'ٹک ٹاک ویڈیو' کے دوران گولی چلنے کا ڈرامہ رچایا گیا تھا تاکہ اصل ملزم بچ سکے۔ تاہم، پولیس نے تمام حقائق کو بے نقاب کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ مقتول کے والد سیف الرحمان نے عدالت میں ملزم حمزہ کے خلاف باضابطہ دعوے داری کر دی ہے، جس کے بعد پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔

 

 تھانہ تہکال کی پولیس نے پانچویں جماعت کے طالب علم اویس کے قتل کیس میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکزی ملزم حمزہ اور اس کی مبینہ شریکِ جرم خاتون کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، گرفتار ملزم اور اس کی مبینہ مددگار خاتون سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے اور انہیں بہت جلد میڈیا کے سامنے پیش کر کے کیس کی تمام کڑیاں واضح کر دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اس واقعے کو ٹک ٹاک ویڈیو کے دوران پیش آنے والا حادثہ قرار دیا جا رہا تھا، جسے پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے ایک سوچی سمجھی واردات ثابت کر دکھایا ہے۔