خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے تعلیم کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے 16 ہزار سے زائد ایڈہاک اساتذہ کو مستقل (ریگولر) کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے اس سلسلے میں حکمتِ عملی مرتب کرنے کے لیے 5 مئی کو ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے، جس میں اساتذہ کی مستقلی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ابتدائی طور پر موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اساتذہ کو سی پی فنڈ (CP Fund) کے تحت ریگولرائز کیا جائے گا۔ تاہم، اس عمل میں کچھ انتظامی پیچیدگیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں درجنوں اساتذہ نے تاحال سی پی فنڈ کے تحت اکاؤنٹس کھولنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث ان کی اپریل کی تنخواہوں کی ادائیگی روکے جانے کا امکان ہے۔ محکمہ تعلیم نے اکاؤنٹس نہ کھولنے والے اساتذہ کو وارننگ نوٹسز جاری کر دیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ مخصوص شرائط پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف انتظامی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ 5 مئی کو ہونے والے اجلاس میں ان تمام تیکنیکی مسائل کا حل نکال کر ریگولرائزیشن کے عمل کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔
خبر کی اہم تفصیلات: