ضلع کرم میں پولیس اور علی شیرزئی قبیلہ کے عمائدین کے درمیان ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں، جس کے بعد زیرِ حراست مقامی افراد کو رہا کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً ایک ماہ قبل تھانہ مرغان پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد علاقے میں صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر مذکورہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔
گرفتاریوں کے بعد ان افراد کے لیے پولیس تصدیقی اسناد کا اجرا بھی روک دیا گیا تھا، جس پر مقامی سطح پر تشویش پائی جا رہی تھی۔ اس معاملے کے حل کے لیے آج ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ اور قبائلی مشران کے درمیان مذاکرات ہوئے، جو کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔
مذاکرات کے نتیجے میں تمام زیرِ حراست افراد کی رہائی اور پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹس کے اجرا کو بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد علاقے میں حالات معمول پر آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
قبائلی عمائدین نے اس فیصلے پر پولیس کرم اور اعلیٰ حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ ایسے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔