امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے، جہاں اس کی مدت ختم ہونے میں محض ایک دن باقی رہ گیا ہے۔ موجودہ سیزفائر 21 اپریل کی رات ختم ہو جائے گا، جس کے بعد صورتحال کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں شروع ہونے کا قوی امکان ہے، جہاں فریقین جنگ بندی میں توسیع اور کشیدگی میں کمی کے لیے بات چیت کریں گے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی وفد کی آمد آج متوقع ہے، جو مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور ان کے ذریعے خطے میں استحکام کے لیے کوئی بڑی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی برادری بھی اس عمل کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے۔
اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد پہنچ رہی ہے، جہاں وہ ایرانی حکام کے ساتھ آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کرے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا جنگ بندی میں توسیع ہوگی یا خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ ایسے میں اسلام آباد میں ہونے والی یہ سفارتی سرگرمی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔