امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بیانات کی جنگ نے صورتحال کو نہایت حساس بنا دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے مجوزہ معاہدے پر دستخط نہ کیے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کو “آخری موقع” دینے کی بات کی اور کہا کہ وہ ماضی کی پالیسیوں کو دہرانے کے حق میں نہیں۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر براک اوباما کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 2015 کے جوہری معاہدے کو ایک کمزور حکمت عملی قرار دیا۔
ایک اور انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ سے بات کرتے ہوئے اپنے ممکنہ دورۂ پاکستان کے حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کسی حتمی فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی بیانات اور اقدامات پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے بحری ناکہ بندی کے ذریعے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک کی بندرگاہوں اور ساحلی حدود کی ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے اور اسے “غیر قانونی و مجرمانہ اقدام” تصور کیا جانا چاہیے۔ اسماعیل بقائی نے اقوام متحدہ کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ انہیں اجتماعی سزا کے مترادف بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ خطے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اگر سفارتی سطح پر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو یہ کشیدگی عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔