عراق میں طویل عرصے سے جاری سیاسی تعطل کے خاتمے کے لیے پس پردہ سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اہم مشن پر بغداد پہنچا ہے۔ اس وفد کی قیادت پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی کر رہے ہیں، جنہوں نے عراقی شیعہ قیادت کے درمیان بڑھتے اختلافات کو کم کرنے کے لیے متعدد اہم ملاقاتیں کیں۔
ذرائع کے مطابق وفد کی آمد کا بنیادی مقصد سیاسی جماعتوں اور مسلح دھڑوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو ختم کر کے نئی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ پاپولر موبیلائزیشن فورسز (PMF) کے ایک کمانڈر عبدالرحمان الجزائری نے بتایا کہ اس سفارتی کوشش کا ہدف وزیراعظم کے انتخاب کے عمل کو تیز کرنا اور سیاسی بحران کا حل نکالنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسماعیل قانی نے بغداد میں قیام کے دوران شیعہ سیاسی و عسکری دھڑوں کے رہنماؤں سے کم از کم چار اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں حکومت سازی کے اہم نکات اور ممکنہ امیدواروں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایرانی وفد کی روانگی کے فوراً بعد امریکا کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک بھی بغداد پہنچ گئے، جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ عراق کی سیاسی صورتحال پر علاقائی اور عالمی قوتوں کی گہری نظر ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کی توجہ اس وقت وزیراعظم کے انتخاب اور نئی حکومت کی تشکیل پر مرکوز ہے، تاہم اندرونی اختلافات اب بھی ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دن عراق کی سیاست کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں ہر پیش رفت خطے کی مجموعی صورتحال پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔