اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور نامور قانون دان سلمان اکرم راجہ نے پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پہلی ملاقات میں اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔
اہم نکات اور تفصیلات:
- استعفیٰ کی وجہ: سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اصولی پوزیشن پر قائم ہیں اور بانی چیئرمین کی جانب سے دی گئی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عمران خان ان کے موقف پر غور کریں گے۔
- علیمہ خان سے اختلافات: پارٹی میں جاری اندرونی کھنچاؤ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی کی بہنیں سیاسی امور کو مکمل طور پر نہیں سمجھتیں۔ انہوں نے علیمہ خان کی جانب سے جلسے کی کال کے حوالے سے بتایا کہ 10 ہزار افراد کا ہدف پورا نہ ہونا حکمت عملی کی کمی تھی، تاہم ان اختلافات کو انہوں نے "وقتی" قرار دیا۔
- سہولت کاری کے الزامات مسترد: سلمان اکرم راجہ نے حکومت کے لیے سہولت کاری کرنے کے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔
- اتحادیوں کی حمایت: انہوں نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس جیسے تجربہ کار سیاستدانوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ان رہنماؤں کو جان بوجھ کر ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
- جلسہ ملتوی کرنے کی اندرونی کہانی: رپورٹ کے مطابق، شیر افضل مروت اور مشال یوسفزئی کی موجودگی میں سلمان صفدر نے بتایا کہ عمران خان کو 9 اپریل کے جلسے سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا، جس پر انہوں نے مشاورت کے بعد اسے ملتوی کرنے کا مشورہ دیا۔
- عالمی صورتحال پر نظر: ملاقاتوں میں نہ صرف مقامی سیاست بلکہ پاک امریکہ تعلقات، ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدوں اور عالمی امن کے لیے پاکستان کے کردار پر بھی مشاورت کی گئی، جبکہ پارٹی قیادت بین الاقوامی سفارتکاروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔
سلمان اکرم راجہ کے اس اچانک فیصلے نے تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور اب سب کی نظریں عمران خان کے ردعمل پر لگی ہیں۔