وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پشاور میں منعقدہ وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے موجودہ آئینی و قانونی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر آج غیر قانونی نظام کے خلاف منظم مزاحمت نہ کی گئی تو آنے والی نسلوں کا مستقبل غلامی کی زنجیروں میں جکڑا جائے گا۔
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور آئین کی بالادستی
اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونا اور آئین و قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان اٹھنا ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ججز نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، لیکن اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اسے نظر انداز کر دیا، جو نہ صرف عدلیہ کی توہین ہے بلکہ ملک کے پورے انتظامی ڈھانچے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔
عمران خان اور ان کی اہلیہ کے ساتھ سلوک پر تشویش
وزیر اعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا:
"عمران خان کی اہلیہ، جو کہ ایک غیر سیاسی خاتون ہیں، انہیں تنہائی میں رکھا گیا اور ملاقاتوں سے محروم کیا گیا۔ یہ رویہ ملک میں انسانی حقوق اور انصاف کی صورتحال کی نفی کرتا ہے۔"
پرامن جدوجہد اور آئینی راستہ
وزیر اعلیٰ نے وکلاء برادری پر زور دیا کہ وہ آئین کی سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ: