امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران سے جاری کشیدگی اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم ابھی حتمی اقدامات باقی ہیں۔ یہ بات انہوں نے معروف صحافی ماریا بارٹیرومو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز پر نشر کیا جائے گا۔
نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے ابتدائی حصوں میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ تنازع “ختم ہونے کے قریب” ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ جنگ عملی طور پر اختتام پذیر ہو چکی ہے، جس پر انہوں نے محتاط جواب دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال تیزی سے اس جانب بڑھ رہی ہے، تاہم مکمل خاتمے کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر وہ اس مرحلے پر کوئی بڑا فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہیں تو ایران کو اپنے انفراسٹرکچر کی بحالی میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “ابھی ہمارا کام مکمل نہیں ہوا”، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی پالیسی میں مزید اقدامات زیر غور ہیں۔
اگرچہ انہوں نے اپنے بیان میں “فیصلہ کن چال” کی وضاحت نہیں کی، تاہم ماضی میں وہ ایران کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً پلوں اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔
صدر کے مطابق ایران اس وقت کسی ممکنہ معاہدے کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے اور کشیدگی میں کمی کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ بروقت کارروائی نہ کرتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہوتا۔
مکمل انٹرویو جلد نشر کیا جائے گا، جس میں اس معاملے پر مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔