سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ مذاکرات کی ناکامی کے تناظر میں خبردار کیا ہے کہ امریکا اس وقت کمزور سفارتی حیثیت کا شکار ہو چکا ہے اور اس نے اپنی مؤثر پوزیشن کھو دی ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امریکی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کو ایران پر دباؤ برقرار رکھنے والی مضبوط قوت ہونا چاہیے تھا، تاہم صورتحال اس کے برعکس رخ اختیار کر چکی ہے۔
ہیلری کلنٹن نے مذاکراتی عمل میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دامادجیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندہ سٹیو وٹکوف کی شمولیت پر بھی تنقید کرتے ہوئے اس فیصلے کو غیر مؤثر قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نہ صرف اپنی سفارتی برتری برقرار رکھنے میں ناکام رہا بلکہ اس نے اپنی وہ حیثیت بھی کھو دی ہے جس کے ذریعے وہ ایران پر مؤثر انداز میں اثرانداز ہو سکتا تھا۔