ضلع خیبر میں پاک افغان شاہراہ پر ٹرک ڈرائیوروں اور افغان مہاجرین سے مبینہ غیرقانونی رقوم وصول کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد پولیس حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق زیڑے، میچنی اور پڑانگ سم کے چیک پوسٹوں پر ڈرائیوروں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی تھیں، جن میں مبینہ طور پر غیرقانونی وصولیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ابتدائی طور پر یہ الزامات سامنے آئے جس کے بعد متعلقہ حکام نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کیں۔
تحقیقات کے دوران الزامات میں وزن پائے جانے پر 9 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ معطل کیے جانے والوں میں طارق سید، نبی گل، وکیل، سید جان، عاصم، صفات اللہ، ہارون، مشرف اور محمد رحیم شامل ہیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر کی جانب سے جاری اعلامیے میں تمام معطل اہلکاروں کو فوری طور پر لائن حاضر ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ مزید انکوائری جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی اہلکار کو اختیارات کے ناجائز استعمال یا شہریوں کے استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اگر مزید شواہد سامنے آئے تو مزید سخت کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرحدی علاقوں میں ٹرانسپورٹرز اور مہاجرین کو درپیش مسائل پر پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے، اور اس کارروائی کو شفافیت اور احتساب کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔