حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ثالثی کے لیے ’اچھے میزبان‘ پاکستان کو مذاکرات سے کیا حاصل ہوا، بی بی سی کی رپورٹ Home / پاکستان /

ثالثی کے لیے ’اچھے میزبان‘ پاکستان کو مذاکرات سے کیا حاصل ہوا، بی بی سی کی رپورٹ

ایڈیٹر - 13/04/2026
ثالثی کے لیے ’اچھے میزبان‘ پاکستان کو مذاکرات سے کیا حاصل ہوا، بی بی سی کی رپورٹ

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک تو نہ پہنچ سکے، تاہم پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا رہے گا اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار  نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ فریقین کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے سنجیدہ رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر  کے ہمراہ مذاکرات کے کئی ادوار میں شرکت کی، جو بظاہر مشکل مگر تعمیری نوعیت کے تھے۔

دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، اور ایرانی وفد نے بھی پاکستان کی میزبانی اور سہولت کاری کو سراہا، جس سے اسلام آباد کے سفارتی کردار کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔

مبصرین کے مطابق پاکستان نے دونوں ممالک کو ایک میز پر لا کر ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل کی، جس سے اس کا عالمی وقار بڑھا۔ تاہم معاہدہ طے نہ پانے کے باعث بعض حلقوں میں مایوسی بھی پائی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے پیچیدہ مذاکرات فوری نتائج نہیں دیتے۔ مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر فاروق حسنات کے مطابق ایسے مذاکرات وقت طلب ہوتے ہیں اور انہیں ناکامی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے بقول فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات ابھی برقرار ہیں، تاہم بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا خود ایک مثبت پیش رفت ہے۔

ادھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کئی نکات پر اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے، مگر چند اہم معاملات پر اختلاف کے باعث جامع معاہدہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ فوری نتائج سامنے نہیں آئے، لیکن پاکستان اب بھی ایک مؤثر ثالث کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ سفارتی کوششیں کسی بریک تھرو کا باعث بنتی ہیں یا خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے۔