ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے، جہاں ایرانی حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات پر طنزیہ انداز میں ردعمل دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی سفارتی حلقوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر روایتی انداز اپناتے ہوئے پیغامات جاری کیے، جن میں طنز کے طور پر کہا گیا کہ "ہم سے چابیاں گم ہو گئی ہیں"۔ ایک اور پیغام میں اشارہ دیا گیا کہ "چابی گملے کے نیچے رکھی ہے، دوستوں کے لیے راستہ کھلا ہے"، جسے امریکی بیانات کا جواب سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز کو کھولنے میں پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے، جیسے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی نے وسیع شکل اختیار کر لی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی کی ترسیل اور خطے کے امن کے لیے نہایت حساس اہمیت رکھتی ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر اثرات مرتب کر سکتی