واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے جلد کسی معاہدے پر پیش رفت نہ کی تو امریکا انتہائی سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے، جن میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا اور تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکنہ کارروائی کی صورت میں ایران کے مختلف حصوں میں بنیادی ڈھانچے، خصوصاً پلوں اور بجلی گھروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ معاملات کشیدگی کے بجائے سفارتی راستے سے حل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے بعض حکام پسِ پردہ رابطوں میں ہیں اور قوی امکان ہے کہ پیر تک کسی پیش رفت یا معاہدے کی صورت سامنے آ سکتی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق موجودہ ایرانی مذاکرات کاروں کو محدود مدت کے لیے رعایت دی گئی ہے تاکہ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ رواں سال امریکا نے ایران میں احتجاج کرنے والے گروہوں کی مدد کے لیے کردوں کے ذریعے اسلحہ بھیجا تھا، تاہم ان کے بقول یہ ہتھیار ممکنہ طور پر کرد گروپوں نے اپنے پاس ہی رکھ لیے۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔