وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایک روزہ دورہ باجوڑ کے موقع پر سول کالونی خار میں باجوڑ امن جرگے کے مشران سے ملاقات کی ، سپاس نامہ میں موجود تمام مطالبات کو منظور کرنے کا اعلان کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے سول کالونی خار میں شجر کاری مہم کا بھی افتتاح کیااور باجوڑ کےلئے یونیورسٹی کیمپس کے قیام کااعلان بھی کیا۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے باجوڑ سپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ گرینڈ امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے امن کو صوبے کی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دے دیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے جلسے میں سفید جھنڈا لہرا کر امن کا پیغام بھی دیا۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبرپختونخوا گزشتہ کئی دہائیوں سے بدامنی کا شکار رہا ہے اور عوام نے اس دوران بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نے اس جنگ میں اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں اور کئی سالوں سے جنازے اٹھا رہے ہیں۔”انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی کو خیرات میں نہیں ملا بلکہ اسے تسلیم کیا گیا ہے، تاہم پختونوں کو گزشتہ 78 سالوں سے پسماندہ رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو دوبارہ مشکل پیش آئی تو پختون قوم دفاع کے لیے تیار ہے، لیکن وہ “ڈالروں کی جنگ” کا حصہ نہیں بنے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن علاقوں میں قدرتی وسائل موجود ہیں، وہاں مسائل بھی پیدا کیے جا رہے ہیں اور بار بار آپریشنز کیے گئے، مگر اس کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 22 آپریشنز ہو چکے ہیں لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے افراد دوبارہ آپریشن کے فیصلے کر رہے ہیں، جبکہ اس کے نتائج پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے باعث 31 ہزار خاندان متاثر ہوئے، جبکہ اب تک قبائلی عوام پر 15 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔وزیراعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ وسائل عوام کی فلاح پر خرچ کریں گے اور کسی بھی صورت “جرنیلوں کو ایک پیسہ نہیں دیں گے”۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے نیشنل جرگہ بنانے کی تجویز دی تھی، مگر اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ 22 سالوں سے بدامنی کا شکار ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے فیصلے کیے جائیں جو پوری پاکستانی قوم کے مفاد میں ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے تاحال ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا، حالانکہ 30 ارب روپے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ مسائل کا حل اتحاد میں ہے اور سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ان مقامات تک جائیں گے جہاں پالیسیاں بنائی جاتی ہیں تاکہ عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی جا