ضلع باجوڑ میں منعقدہ امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے امن کو ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے بڑے ترقیاتی منصوبوں اور مالی پیکج کا اعلان کیا، ساتھ ہی سیکیورٹی پالیسیوں پر واضح اور سخت مؤقف بھی اختیار کیا۔
اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے جرگہ میں شریک قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سپاس نامے میں شامل تمام مطالبات، بشمول رکن صوبائی اسمبلی نثار باز کی جانب سے پیش کردہ نکات، منظور کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل کو عوام کی فلاح پر ہی خرچ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ باجوڑ اور پورے صوبے کی ترقی کا دارومدار امن پر ہے، اور ماضی کے آپریشنز، ڈرون حملوں اور فضائی کارروائیوں نے نہ صرف جانی نقصان پہنچایا بلکہ ہزاروں خاندانوں کو بے گھر بھی کیا۔ ان کے مطابق صرف باجوڑ میں 31 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہوئے، مگر اس کے باوجود پائیدار امن حاصل نہ ہو سکا۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ پختون عوام کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں، اور اگر ملک پر مشکل وقت آیا تو بھرپور ساتھ دیا جائے گا، تاہم کسی بیرونی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اہم فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ عوامی مشاورت سے ہونے چاہئیں۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے محمد سہیل آفریدی نے باجوڑ میں یونیورسٹی کیمپس کے قیام، دیر اور سوات موٹر ویز سے رابطہ سڑکوں کی تعمیر، اور 1000 ارب روپے کے خصوصی قبائلی پیکج کا اعلان کیا۔ اس پیکج میں سے 200 ارب روپے صحت اور 200 ارب تعلیم کے شعبوں کے لیے مختص کیے جائیں گے، جبکہ باقی رقم دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگی۔
مزید برآں، انہوں نے 2007 سے بند پڑے باجوڑ نرسنگ کالج کو فعال بنانے اور خصوصی افراد کے لیے اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس قائم کرنے کا بھی اعلان کیا، جسے علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کرپشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے وسائل کو بیرون ملک جائیدادیں بنانے پر خرچ کیا گیا، جو ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ پالیسی سازی کے مراکز پر جا کر احتجاج بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کے حقوق کا مؤثر دفاع کیا جا سکے۔
سیاسی و سماجی مبصرین کے مطابق باجوڑ امن جرگہ میں کیے گئے یہ اعلانات نہ صرف عوامی توقعات کو بڑھا رہے ہیں بلکہ خطے میں امن، ترقی اور شفاف طرز حکمرانی کے حوالے سے نئی بحث کو بھی جنم دے رہے ہیں۔