اسلام آباد ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ 2 مالی سالوں کے دوران مختلف شعبوں اور بڑے سرمایہ دار طبقے کو مجموعی طور پر 49 کھرب 75 ارب روپے کے ٹیکس استثنی دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب محنت کش اور تنخواہ دار طبقہ مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے بوجھ کا شکار ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے دوران وفاقی حکومت نے مختلف شعبوں کو صرف انکم ٹیکس کی مد میں 10 کھرب 22 ارب روپے کی رعایت دی۔
اس کے علاوہ انہی دو برسوں میں سیلز ٹیکس کی مد میں 2757 ارب روپے کا استنی بڑے سرمایہ داروں اور مخصوص شعبوں کو دیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں بھی دو مالی سالوں کے دوران 1195 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی، جس سے درآمدی شعبے اور بڑے کاروباری گروپوں کو فائدہ پہنچا۔
توانائی اور کان کنی کے شعبے کو دو سالوں میں 103 ارب 47 کروڑ روپے کا ٹیکس استعفی دیا گیا، جبکہ ہاؤسنگ اور پبلک ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو 43 کروڑ 28 لاکھ روپے کی رعایت فراہم کی گئی۔
تعلیمی شعبے کو دومالی سالوں میں 17 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ، جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو 5 ارب 86 کروڑ روپے کا استثنیٰ دیا گیا۔
اسی طرح صحت اور فارماسیوٹیکل شعبے کو 3 ارب 49 کروڑ روپے
کی ٹیکس رعایت دی گئی۔