حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران جنگ میں پاکستان کی خاموش سفارتکاری، اندر کی کہانی کیا ہے؟ Home / پاکستان /

ایران جنگ میں پاکستان کی خاموش سفارتکاری، اندر کی کہانی کیا ہے؟

ایڈیٹر - 31/03/2026
ایران جنگ میں پاکستان کی خاموش سفارتکاری، اندر کی کہانی کیا ہے؟

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے تنازع کے حل کے لیے سفارتی سرگرمیوں نے کئی حلقوں کو حیران کیا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دینا شاید درست نہیں۔

حالیہ عرصے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر مثبت انداز میں کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ عاصم منیر خطے کے دیگر رہنماؤں کے مقابلے میں ایران کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، جو موجودہ بحران میں ایک اہم عنصر تصور کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اور ایران کے تعلقات صرف جغرافیائی قربت تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد کے ساتھ ساتھ گہرے ثقافتی، مذہبی اور تاریخی روابط بھی موجود ہیں۔ یہی عوامل پاکستان کو اس تنازع میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر نمایاں کرتے ہیں۔

مزید برآں، پاکستان کی سرزمین پر امریکہ کا کوئی فوجی اڈہ موجود نہیں، جو اسے ایک نسبتاً غیر جانب دار حیثیت فراہم کرتا ہے۔ خلیجی ممالک، خصوصاً قطر، روایتی طور پر ایسے تنازعات میں مذاکراتی کردار ادا کرتے رہے ہیں، تاہم اس بار پاکستان کو اس تنازع میں ایک فعال سفارتی کردار ادا کرتے دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ جنگ بندی کے امکانات کو بھی فروغ دینے کے لیے پس پردہ رابطوں میں مصروف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کردار پاکستان کے اپنے اسٹریٹجک مفادات سے بھی جڑا ہوا ہے، کیونکہ خطے میں کسی بڑی جنگ کے اثرات براہ راست اس کی سلامتی اور معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔

تاہم اس صورتحال میں کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ایک جانب پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب وہ ایک بڑے بین الاقوامی تنازع میں ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

حالیہ مہینوں میں بھارت کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی صورتحال نے خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھایا ہے، جس کے باعث بعض حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا پاکستان اس سطح کی سفارتکاری کا بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں۔

اس کے باوجود، مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی یہ حکمت عملی نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے اہم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے سفارتی کردار کو بھی مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔