واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے اپنی حکمت عملی میں نمایاں نرمی کا اشارہ دیا ہے اور مبینہ طور پر عسکری تصادم کے خاتمے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ختم کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صدر نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی فوری عسکری اقدام سے گریز کا عندیہ دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلوانے کے لیے براہ راست کارروائی کے بجائے سفارتی دباؤ کو ترجیح دینے پر غور کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس سلسلے میں یورپی ممالک اور خلیجی ریاستوں کو فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی قیادت کو خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی جارحانہ اقدام کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور ممکنہ طور پر یہ تنازع کئی ہفتوں تک طول پکڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی تبدیلی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور سیکیورٹی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔