روس اور برطانیہ کے درمیان بڑھتی سفارتی کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں ماسکو نے برطانوی سفارتکار کو جاسوسی کے الزامات کے تحت ملک چھوڑنے کی ہدایت دے دی ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق برطانیہ کے ناظم الامور کو طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور انہیں آگاہ کیا گیا کہ متعلقہ سفارتکار کو دو ہفتوں کے اندر روس چھوڑنا ہوگا۔ روسی حکام کا مؤقف ہے کہ مذکورہ سفارتکار ملک کی معاشی صورتحال سے متعلق حساس معلومات حاصل کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔
روسی سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو اس مبینہ جاسوسی سرگرمی کی تصدیق کرتے ہیں، جس کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں برطانیہ نے روس کے کئی تجارتی بحری جہازوں کو روکنے کی کارروائیاں کی تھیں۔ برطانوی حکومت نے روس کے مبینہ ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف اپنی مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے بحری افواج کو اضافی اختیارات بھی فراہم کیے ہیں۔
ان نئے اختیارات کے تحت برطانوی بحریہ کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے سمندری حدود سے گزرنے والے پابندیوں کی زد میں آنے والے جہازوں کو روک کر ان کی تلاشی لے سکے اور ضروری کارروائی کر سکے۔
برطانیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد روس کی جانب سے یوکرین میں جاری جنگ کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو محدود کرنا ہے۔ تاہم روس نے ان اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔