اسلام آباد: اہم سفارتی پیش رفت کے دوران پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس میں مقدس مقامات تک رسائی محدود کرنے کے اقدامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
پاکستان، مصر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیے، قطر اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور چرچ آف ہولی سیپلکر تک رسائی میں رکاوٹیں ڈالنا بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اعلامیے میں زور دیا گیا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں موجود مذہبی مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ بالخصوص رمضان المبارک کے دوران مسجد اقصیٰ کے داخلی راستے بند کرنا مذہبی آزادی کے اصولوں کے منافی قرار دیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے اردن کے زیر انتظام محکمہ اوقاف کے کردار کو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام کے لیے واحد مستند اتھارٹی قرار دیتے ہوئے اس مؤقف کو دہرایا کہ موجودہ اسٹیٹس کو برقرار رکھا جائے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے اسرائیل کو ان پالیسیوں سے باز رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، تاکہ خطے میں مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔