ایران نے حالیہ دنوں میں اپنی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے، جبکہ جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا کے بیانات نے خطے کی صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
عباس عراقچی نے مسقط میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں، جہاں علاقائی حالات اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وہ روس روانگی سے قبل ایک بار پھر پاکستان کا دورہ بھی کریں گے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد کے کچھ اراکین واپس تہران پہنچ چکے ہیں، جبکہ دیگر نمائندے اسلام آباد میں وزیر خارجہ سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔
اس سے قبل ایرانی وفد نے اسلام آباد میں شہباز شریف اور عسکری قیادت سے بھی اہم ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور بدلتے ہوئے حالات زیر بحث آئے۔ مزید برآں، شہباز شریف اور مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفون پر بھی رابطہ ہوا، جس میں تقریباً پچاس منٹ تک دوطرفہ امور اور علاقائی پیش رفت پر گفتگو کی گئی۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ جوہری ہتھیار نہ بنانے سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے ایک ابتدائی مسودہ پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد مختصر وقت میں ایک نیا اور بہتر مسودہ بھی سامنے آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ پیچیدہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر اس بات کو یقینی بنانے سے متعلق ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ امریکی صدر کے بقول ایران کے اندر قیادت کے حوالے سے کچھ اختلافات موجود ہیں، تاہم واشنگٹن جس فریق کے ساتھ اتفاق رائے ہو گا، اسی کے ساتھ بات چیت آگے بڑھائی جائے گی۔