جنوبی لبنان میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں حزب اللہ کی جانب سے کیے گئے راکٹ حملوں میں اسرائیلی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں مزید چار اسرائیلی اہلکار ہلاک ہو گئے، جس کے بعد حالیہ جھڑپوں میں مارے جانے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر دس ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے اپنے چار اہلکاروں کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے اس کے جواب میں لبنان کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے تیز کر دیے ہیں جبکہ جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ یہ سلسلہ دو مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے کیے گئے سرحد پار حملے کے بعد شروع ہوا تھا۔
لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جس سے انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
خطے میں یہ کشیدگی اس وقت مزید بھڑک اٹھی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ رپورٹس کے مطابق فروری کے آخر سے جاری ان حملوں میں ایران میں بھی ایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
ایران نے بھی جوابی حکمت عملی اپناتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جس سے پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب حالیہ راتوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر شدید فضائی حملے کیے گئے۔ امریکی حکام کے مطابق اصفہان میں ایک اہم اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، جسے ایران کی عسکری صلاحیتوں کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال ایک وسیع جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔