اسلام آباد: اتوار کے روز پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا، جہاں مصر، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی آمد کے باعث اہم ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ان ملاقاتوں کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مصر، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت چار ملکی مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال، بالخصوص جاری تنازعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر مہمان وزرائے خارجہ رات گئے اپنے اپنے ممالک روانہ ہو گئے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مستقبل قریب میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ایک پائیدار حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ امریکہ اور ایران دونوں نے پاکستان کی سہولت کاری میں مذاکرات کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر، ترکی اور سعودی عرب نے بھی اس عمل میں پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق اسلام آباد میں منعقدہ یہ اجلاس دراصل 19 مارچ کو ریاض میں ہونے والے اسی نوعیت کے پہلے اجلاس کا تسلسل تھا، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر ان کی چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ بھی تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے، جس میں ممکنہ مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان واقعی امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔