امریکا بھر میں ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں درجنوں ریاستوں میں ہزاروں ریلیاں نکالی گئیں اور لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکا کی تقریباً 50 ریاستوں میں 3 ہزار سے زائد احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے، جن میں مجموعی طور پر 70 لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور جنگی اقدامات کی مخالفت کی۔
ان مظاہروں کے دوران "نو کنگز" کے عنوان سے منعقدہ ریلیوں میں مقررین نے حکومت پر کڑی تنقید کی۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ امریکی قیادت دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کسی بھی صورت میں آمریت کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی ایک فرد کو قانون سے بالاتر ہونے دیا جائے گا۔
برنی سینڈرز نے مزید کہا کہ ماضی میں عراق جنگ کے حوالے سے بھی عوام کو گمراہ کیا گیا تھا اور اب ایران کے معاملے پر بھی حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے وسائل کو غیر ضروری جنگوں پر خرچ کرنا بند کیا جائے۔
انہوں نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ہزاروں شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، لہٰذا اسرائیل کو فراہم کی جانے والی عسکری امداد پر بھی نظرثانی کی جانی چاہیے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر جنگی پالیسیوں سے دستبردار ہو کر سفارتی راستہ اختیار کرے اور عالمی امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کرے۔