اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عسکری جھڑپوں کے دوران اسرائیلی حکام نے پہلی مرتبہ اپنے جانی و مالی نقصانات سے متعلق محدود تفصیلات جاری کی ہیں، جس نے جنگ کی شدت کو نمایاں کر دیا ہے۔
اسرائیلی سرکاری بیان کے مطابق حالیہ تنازع کے آغاز سے اب تک سیکڑوں فوجی زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ شہری آبادی بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد زخمی ہو کر مختلف اسپتالوں میں زیر علاج رہے، جن میں سے متعدد اب بھی طبی نگرانی میں ہیں۔
وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ ایک دن کے دوران درجنوں افراد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جس کے بعد مجموعی طور پر زیر علاج مریضوں کی تعداد کئی ہزار تک جا پہنچی ہے۔ زخمیوں میں کچھ افراد کی حالت نازک بتائی گئی ہے جبکہ اکثریت کو ابتدائی طبی امداد کے بعد بہتر قرار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق بعض شہریوں کو حملوں کے دوران محفوظ مقامات تک پہنچنے کی کوشش میں بھی چوٹیں آئیں، تاہم زخمی ہونے کی وجوہات کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنگ کے دوران اس کے سیکڑوں اہلکار زخمی ہوئے ہیں، تاہم ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ معلومات جاری نہیں کی گئیں، جس پر مختلف حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اسی تناظر میں اسرائیل نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ بھی منظور کر لیا ہے، جسے ماہرین ایک غیر معمولی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس بھاری بجٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کسی مختصر تنازع کے بجائے ایک طویل اور کثیر الجہتی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔
دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر محمد المصری نے ایک انٹرویو میں اس پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ اسرائیل کی طویل المدتی عسکری حکمت عملی کا عکاس ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل بیک وقت مختلف محاذوں پر سرگرم رہنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں خطے کے متعدد ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ امریکا طویل عرصے سے اسرائیل کو بھاری فوجی امداد فراہم کرتا آیا ہے، تاہم بدلتے ہوئے عالمی اور امریکی سیاسی حالات کے باعث مستقبل میں اس تعاون کی نوعیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تنازع فوری اختتام کے قریب نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک طویل دورانیے پر محیط ہو سکتا ہے، جس کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسلسل عسکری کارروائیاں اسرائیل کو علاقائی سطح پر مزید تنہائی کی جانب دھکیل سکتی ہیں۔