مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور شدت اختیار کیے ہوئے ہے، جہاں ایک جانب حزب اللّٰہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 21 اسرائیلی ٹینک تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تو دوسری جانب اسرائیل نے اپنے ایک مزید فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
جاری جھڑپوں اور سفارتی کوششوں کے باوجود خطے میں جنگی کارروائیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت قم اور اُرومیہ میں مبینہ طور پر رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کم از کم 13 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ملٹی وار ہیڈ ہتھیاروں اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی شہر اشدود میں آئل اسٹوریج ٹینکس اور ڈپو پر حملے کیے گئے۔
علاوہ ازیں، کویت میں علی السالم اور العدیری، متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس، اور بحرین میں شیخ عیسیٰ بیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ لبنانی سرحدی علاقوں میں اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے، جہاں جھڑپیں مسلسل جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کے مطالبات بھی تیز ہو گئے ہیں۔