حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آئی ایم ایف سے اہم پیش رفت، پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی نئی مالی سہولت ملنے کا امکان Home / پاکستان /

آئی ایم ایف سے اہم پیش رفت، پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی نئی مالی سہولت ملنے کا امکان

ایڈیٹر - 28/03/2026
آئی ایم ایف سے اہم پیش رفت، پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی نئی مالی سہولت ملنے کا امکان

اسلام آباد:  عالمی مالیاتی فنڈ اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت ملک کو مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق، اس پیکج میں توسیعی فنڈ سہولت کے تحت ایک ارب ڈالر جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تحت تقریباً 21 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔ تاہم اس رقم کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے مشروط ہے، جس کے بعد پاکستان کو ملنے والی مجموعی امداد 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں، جہاں مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت مالی خسارہ کم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔ سماجی تحفظ کے تحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو وسعت دی گئی ہے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ طبقات کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

مزید برآں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھے، جبکہ ضرورت پڑنے پر شرح سود میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور مجموعی معاشی استحکام میں اضافہ ہوا ہے، تاہم توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی کو دوبارہ بڑھا سکتا ہے۔ ادارے نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور سرکاری اخراجات میں کمی پر زور دیا ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ٹیکس نظام، آڈٹ کے مؤثر طریقہ کار اور وفاق و صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم پر بھی کام جاری ہے۔ مالی سال 2026 کے لیے 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جسے 2027 تک 2 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

اعلامیے کے مطابق حکومت نے صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں میں اخراجات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور گردشی قرضوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ سرکاری اداروں کی نجکاری اور مارکیٹ میں حکومتی مداخلت کم کرنا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔

مزید برآں، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، گرین ٹرانسپورٹ کے فروغ، کاربن اخراج میں کمی اور پانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔