برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ سے جاری حملوں کے باوجود ایران کے میزائل ذخیرے کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا جا سکا۔
رپورٹ میں امریکی انٹیلی جنس سے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے میزائلوں کا صرف تقریباً ایک تہائی حصہ ہی مؤثر طور پر تباہ یا ناکارہ بنایا جا سکا ہے، جبکہ باقی صلاحیت کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں۔ بعض میزائل حملوں سے متاثر ہونے کے باوجود زیر زمین سرنگوں اور بنکروں میں محفوظ یا دبے ہونے کے باعث ان کی حقیقی حالت کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔
اسی طرح ایران کے ڈرون پروگرام کے حوالے سے بھی جزوی نقصان کی اطلاعات ہیں، تاہم اس کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ یہ صورتحال ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے مختلف دکھائی دیتی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے پاس محدود تعداد میں میزائل باقی رہ گئے ہیں، اگرچہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ محدود صلاحیت بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کے تناظر میں۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ ایران کی میزائل، ڈرون اور بحری پیداوار سے متعلق دو تہائی سے زائد تنصیبات کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔
دوسری جانب بعض ماہرین اور امریکی قانون ساز ان دعوؤں پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔ امریکی کانگریس کے رکن سیٹھ مولٹن کے مطابق امکان ہے کہ ایران نے حکمت عملی کے تحت اپنی کچھ عسکری صلاحیت محفوظ رکھی ہو اور اسے مکمل طور پر استعمال نہ کیا ہو۔
حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران بدستور اپنی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے متحدہ عرب امارات پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ پہلی بار طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرتے ہوئے بحر ہند میں واقع ڈئیگو گارسیا کے فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کی بڑی طاقت اس کا وسیع زیر زمین نیٹ ورک ہے، جہاں درجنوں سرنگوں اور تنصیبات میں میزائل اور لانچر محفوظ رکھے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ امریکی حکام بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایران کے اصل میزائل ذخیرے کا مکمل اندازہ لگانا اب بھی ممکن نہیں۔
امریکا کے مطابق اس جنگ کا بنیادی مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا، اس کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو کمزور بنانا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، تاہم موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کو نقصان پہنچنے کے باوجود اس کی دفاعی طاقت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔