مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی اور ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ایران نے اسرائیلی شہر تل ابیب پر میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض حملوں میں کلسٹر بموں کے استعمال کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ کویت کی الشویخ بندرگاہ پر امریکی بحری اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں چھ ٹیکٹیکل جہازوں پر حملے کیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق ان میں سے تین جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر کو شدید نقصان پہنچا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "وعدہ صادق چہارم" کے نام سے جاری آپریشن کے تحت حملوں کی ایک اور لہر میں دبئی کے ساحلی علاقے اور ایک ہوٹل کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس میں مبینہ طور پر متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
اسی سلسلے میں سعودی عرب کے علاقے الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جہاں ری فیولنگ اور ایئر ٹرانسپورٹ تنصیبات کو ہدف بنانے کی بات کی گئی ہے۔
ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، جبکہ خطے کی مجموعی صورتحال بدستور غیر یقینی اور تشویشناک ہے۔