پشاور: قبائلی علاقوں کی نمائندہ تنظیم آل ٹرائبز فاٹا لویا جرگہ کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سینئر قبائلی عمائدین اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں خطے کی حالیہ صورتحال، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کی نگرانی جرگہ کے کوآرڈینیٹر نواب زادہ فضل کریم آفریدی نے کی۔ اس موقع پر قبائلی رہنماؤں نے پشاور میں تعینات ایرانی قونصل جنرل سے ملاقات کی اور حالیہ واقعات پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وفد نے ایرانی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں قبائلی عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
جرگہ کے شرکاء نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
اجلاس کے دوران بعض رہنماؤں نے مسلم دنیا کے باہمی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں امت مسلمہ کو مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ قبائلی عوام ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی اصولی مؤقف اختیار کرتے رہیں گے۔
اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا گیا کہ حالات کے پیش نظر ایک نمائندہ وفد مستقبل قریب میں ایران کا دورہ کرے گا، جہاں وہ اعلیٰ حکام سے ملاقات کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر یکجہتی کا اظہار کرے گا۔
ایرانی قونصل جنرل نے قبائلی وفد کے جذبات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران قبائلی عوام کے کردار اور ان کی تاریخی روایات سے بخوبی آگاہ ہے، اور دونوں خطوں کے درمیان باہمی احترام اور تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ قبائلی معاشرہ ہمیشہ انصاف، امن اور باہمی احترام کے اصولوں کو مقدم رکھے گا اور علاقائی استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔