حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران کی قیادت نے مجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی تھی، ٹرمپ کا دعویٰ Home / بین الاقوامی /

ایران کی قیادت نے مجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی تھی، ٹرمپ کا دعویٰ

ایڈیٹر - 26/03/2026
ایران کی قیادت نے مجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی تھی، ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے غیر رسمی طور پر انہیں ملک کا اگلا سپریم لیڈر بنانے کی پیشکش کی تھی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ تاہم ایران نے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایک ریپبلکن فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور تہران جنگ بندی کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت نے انہیں غیر رسمی طور پر سپریم لیڈر بنانے کی بات کی، لیکن انہوں نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ٹرمپ نے مزید کہا، "کسی بھی ملک کی سربراہی سے زیادہ مشکل کام ایران کی قیادت ہے" اور واضح کیا کہ وہ اس منصب میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں رکھتے۔

رپورٹس کے مطابق، ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اس منصب کے لیے متوقع قرار دیا گیا تھا، تاہم وہ جنگ کے آغاز سے منظر عام پر نہیں آئے اور ان کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔

امریکی صدر نے ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں کو "فوجی طور پر مکمل تباہی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس جنگ میں واضح برتری حاصل کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خفیہ طور پر جنگ بندی چاہتا ہے، لیکن داخلی ردعمل کے خوف سے کھل کر مذاکرات نہیں کر رہا۔

دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے سرکاری ٹی وی پر بیان دیا کہ "ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں" اور واضح کیا کہ ایران کبھی بھی امریکا کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کرے گا۔

امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے پاکستان سمیت دیگر ذرائع کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی جنگ بندی تجویز بھیجی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، خطے میں اتحادی گروپوں کی حمایت بند کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

تاہم ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران نے اس کے برعکس اپنی پانچ نکاتی تجویز پیش کی اور واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی شرائط ایران خود طے کرے گا۔

یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر ایران و امریکا کے تعلقات کے حوالے سے اہم پیچیدگیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔