تہران: بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایران نے ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے لبنان کو بھی اس میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جس سے خطے کی سفارتی صورتحال میں نئی جہت پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک اور رابطہ کاروں کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان کی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس پیش رفت کی تصدیق متعدد علاقائی ذرائع نے بھی کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ حالیہ سفارتی رابطوں میں نمایاں طور پر زیر بحث آیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق تہران کی جانب سے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ممکنہ سمجھوتے میں لبنان میں سرگرم مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے کو بھی شامل کیا جائے۔ ایران اس معاملے کو خطے میں استحکام کے لیے کلیدی حیثیت دیتا ہے۔
مزید برآں، رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے حزب اللہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اسے کسی بھی بڑے سفارتی معاہدے کا حصہ بنایا جائے گا اور اس کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران اس وقت امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے، جبکہ داخلی سطح پر مشاورت کا عمل بھی جاری ہے تاکہ کسی حتمی فیصلے تک پہنچا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی یہ نئی شرط مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، تاہم یہ اقدام خطے میں اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔